پہلا مارشل لاء


پہلا مارشل لاء



 پہلا مارشل لاء 1957 اور 1958 کے سال پاکستان میں اندرونی افراتفری اور تباہ و بربادی کے سال ثابت ہوئے ۔ میجر جنرل اسکندر مرزا نے 17 اکتوبر 1958 کو بری فوج کے کمانڈر انچیف جزل اوب خان کی سربراہی میں ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا ۔ جنرل محمد ایوب خان نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اختیارات سنبال لئے ۔ انہوں نے آئین کو منسوخ کر دیا اور اسمبلیاں اور وزارتیں برطرف کر دیں ۔ 65 سیاست دانوں کو نا اہل قرار دے دیا گیا ۔ 24 اکتوبر کو صدر اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کو کابینہ بنانے کی دعوت دی چنانچہ انہوں نے بارہ افراد پر مشتمل اپنی کابینہ تشکیل دی ۔ 27 اکتوبر 1958 کو میجر جنرل اسکندر مرزا صدارت سے الگ ہو گئے اور جنرل ایوب خان ملک کے صدر بنے ۔ صدر ایوب نے صدارت کی کرسی پرمتمکن ہونے کے بعد میں دور رس اصلاحات رائج کیں اور دارالحکومت کراچی سے اسلام آبادنتقل کیا ۔ زرعی اصلاحات اور بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو بھی رواج دیا گیا ۔ 1960 ء میں بھارت کے ساتھ نہری پانی کا معاہدہ طے پایا اور بنیادی جمہورتوں کے منتخب ارکان نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے صدر ایوب خان کو اعتماد کا ووٹ دیا ۔ 17 فروری 1960 کو صدر نے نئی کابینہ بنائی ۔ جون 1962 میں ملک میں نیا آئین نافذ کیا اور اس کے ساتھ ای مارشل لاء کے خاتمے کا اعلان کیا ۔ نئے آئین کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیاں وجود میں آئیں 2 جنوری 1965 کو ملک بھر میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے ۔ اسی ہزار جمہوری ارکان میں سے تقریبا ایک ہزار ارکان نے صدر ایوب خان کے حق میں ووٹ ڈالے ان کے مد مقابل امیدواروں میں محترمہ فاطمہ جناح ( قائد اعظم کی ہمشیرہ ) کو اٹھائیس ہزار میاں بشیر احمد کو 65 اور کے ایم کمال کو 183 ووٹ ملے ۔ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے نئے انتخاب کے تحت 23 مارچ 1965 ء کو اپ عہدے کا حلف اٹھایا۔

Comments