پہلی پاک بھارت جنگ

پہلی پاک بھارت جنگ







 پہلی پاک بھارت جنگ بھارت نے اپریل 1965 ء میں رن کچھ میں جنگ کے شعلے بھڑکا دیئے ۔ پاکستان کی غیور مسلح افواج نے دشمن کو اس محاذ پر ملیا میٹ کر کے رکھ دیا اور بھارت کو شکست کی دلدل میں اترتا پڑا ۔ اقوام متحدہ اور برطانوی وزیر اعظم مسٹر ہیرلڈوسن کی ذاتی کوششوں سے دونوں ممالک کے در میان 30 جون 1965 کو ایک معاہدہ طے پایا گیا ۔ جس کے تحت یکم جولائی 1965 سے جنگ بند کر دی گئی ۔ اور فوجیں اپنی اپنی بین الاقوامی سرحدوں پر واپس لوٹ گئیں اور عالی کے لیے ایک ٹربیول قائم کیا گیا ۔ 6 ستمبر 1965 ء کو بھارت نے رن کچھ کی شکست کا بدلہ چکانے کی غرض سے اعلان جنگ کے بغیر لاہور پر حملہ کر دیا ۔ پاکستان کی بری افواج نے پاکستان کے محب وطن عوام کے تعاون سے دشمن پر بھر پور وار کیا ۔ اس سنگین اور نازک حالات کے پیش نظر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے غازیوں اور مجاہدین کے خون کو گرمانے کے لیے ایک پراثر تقریر کی اور کہا : کلمہ طیبہ کا وردکرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑو اسے یہ پتہ ہیں اس نے کس قوم کو للکارا ہے ۔ صدر ایوب کے یہ الفاظ قوم کے ہر فرد کے دل پر اثر انداز ہوئے اور مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ہر محاذ پر پاکستانی عوام دشمن کے سامنے آہنی دیوار بن کر ایستادہ ہو گئے ۔ سترہ روز تک سرحدوں پر گولہ بارود کی موجوں نے سیلاب کا سا منظر دکھایا ۔ اور فضا دھواں دھار رہی مگر پاکستان کے جیالوں نے دشمن کے ساز و سامان کی برتری کے باوجود رقائی اہمیت کے کسی بھی مقام کی جانب پیش قدمی نہ کرنے دی ۔ اس کے بس پاک فوج کے بریف مجاہ دشمن کے ملک میں دور تک گئے چلے گئے اور ہزاروں مربع کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر لیا ۔ دشمن نے مجبور ہو کر اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک دی ۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا اور جنگ بندی کی قرارداد منظور ہوئی اور 23 ستمبر کو محاذوں پر جنگ بندی ہوگئی اور حالات معمول پر آگئے ۔

Comments