نہرور پورٹ کی سفارشات اور مسلمانوں کا ردعمل

نہرور پورٹ کی سفارشات اور مسلمانوں کا ردعمل


 نہرور پورٹ کی سفارشات اور مسلمانوں کا ردعمل انڈین نیشنل کانگریس کا سالانہ اجلاس دسمبر 1927 ء کو مدراس میں ہوا ۔ اس اجلاس میں ہندو مسلم مسئلہ پر طویل قرار دادیں منظور کی گئیں ۔ 20 مارچ 1927 ء کی تجاویز دہلی پر غور ہوا ۔ لیکن انہیں منظور نہ کیا گیا ۔ کانگریس نے یہ طے کیا کہ ہندوستان کیلئے ایک دستور مرتب کیا جائے ۔ اس مقصد کیلئے 12 فروری 1928 ء کو دہلی میں ایک کل جماعتی کانفرنس طلب کی گئی ۔ اس اجلاس میں تجاویز دہلی کو کانگریں اور دوسری جماعتوں نے تسلیم کر لیا ۔ کل جماعتی کانفرنس کے یکے بعد دیگرے دو مزید اجلاس ہوئے ۔ جو کسی نتیجہ کے بغیر ہی اختتام پذیر ہوئے ۔ 19 مئی 1928 ء کو تیسرے اجلاس میں ایک کمیٹی کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا ۔ پنڈت موتی لعل نہرو اس کمیٹی کے صدر اور ان کا بیٹا جواہرلعل نہرو اس کا سیکرٹری مقرر ہوا ۔ اس کمیٹی کو نہر بیٹی کہتے ہیں ۔ دوسرے اراکین میں سر علی امام مسلمان اراکین نے اس کمیٹی کے کام میں جو آئین سازی سے متعلق تھا کوئی سرگرم حصہ نہ لیا ۔ اس رپورٹ کو جدید ہندوستان کی آئینی و سیاسی تاریخ اور مسلمانان ہند کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت اور نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔

Comments